Moien Shadab | Article | خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں

4 5

معین شاداب
اینکر سہارا ٹی وی۔ انڈیا
shadabmoien@gmail.com

خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں


” ایڈز ” میں شامل کہانیاں پڑھتے وقت بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خورشید حیات ، جدید افسانہ نگار ہیں – لیکن ذرا ته میں اتر جائیے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے
اپنی بات کہنے کے لئے علامتیت اور تجریدیت کا سہارا ضرور لیا ہے ، لیکن ان کے یہاں ایسا ابہام و اہمال نہیں ہے جو قاری کے لئے دیواروں سے سر ٹکرانے والی کیفیت پیدا کر دیتا ہے – ان کی علامتوں میں معنی آفرینی ہے اور معنی کی بہت سی جہتیں ان کی تحریروں میں آباد ہیں – روایت سے بغاوت اور بغاوت سے بھی بغاوت ان کی شناخت ہے ، جو ان کا اپنا تجربہ ہے اور انہیں انفرادیت بخشتا ہے – ان کی کہانی نیی کہانی ہے – آج کی کہانی ہے جو لفظ لفظ تخلیقی لہر سے قاری کو روشناس کراتی ہے –
یونہی دیکھیں تو ” میں ” بس ایک لفظ ہے لیکن اگر اس کا عرفان حاصل ہو جائے تو ” ہزار داستان ” – اپنے آپ میں مکمل کاینات – ایک پہلو سے زہر ہلاہل اور دوسرے سے آب حیات – علامہ اقبال کو اسی ” میں ” کی افہام و تفہیم نے نہال کر دیا – کارل مارکس نے اس لفظ کے طفیل زندگی کے بہت سے رموز حاصل کر لئے – خورشید حیات کے افسانوی مجموعہ ” ایڈز ” میں شامل کہانیاں اسی ” میں ” کو جاننے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش یا عمل سے عبارت ہیں – اس مجموعہ میں جگہ جگہ سطروں میں یا سطروں کے درمیان "‘ میں ” روشن ہے – کتاب کے پیش لفظ کو بھی خورشید حیات نے ” میں ” کا عنوان دیا ہے – مصنف کا یہ مضمون گویا ان کے افسانوں کا ایجنڈہ ہے – ” میں کون ہوں ؟ میں کیوں ہوں ؟ میں کچھ ہوں تبھی تو ہوں – کچھ نہ ہوتا تو بنایا کیوں جاتا — ” یہ سوال و جواب یہ مکالمے اس سفر اور اس کے جواز کا عنوان ہیں جو خورشید حیات نے لفظ لفظ اور ورق ورق طے کیا ہے – وہ لفظ وہ جملے جو افسانہ نگار کی نگاہ میں بہت مقدس ہیں – ” میں ” سے شروع ہونے والا یہ سفر کسی اکایی میں گم ہو کر نہیں رہ جاتا ، میں اور تم اور تم اور ہم میں تفریق بھی نہیں کرتا بلکہ میں کے بعد ہم اور ہم کے بعد ہم سب کی منازل سے گزرتا ہوا انسان کے ہاتھ میں اس کا تشخص نامہ تھماتے ہوے کی اجلے احساس کی تلاش میں نکل پڑتا ہے – کبھی نہ تھمنے والا یہ تہذیبی سفر دونوں سمتوں میں جاری رہتا ہے – ماضی کی جانب بھی اور مستقبل کی طرف بھی – بیتے ہوے لمحوں سے جنگ کے لئے – گمشدہ روایتوں کی تلاش میں ، تہذیبی اور ثقافتی درختوں کی جڑیں کریدنے کی خاطر اور دوسری سمت نیئی قدروں کی تشکیل کی کوشش میں – زندگی کو نیے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے – خورشید حیات کی نظر میں حال اور مستقبل کو سجانے سنوارنے کے لئے درپیش چیلنجوں کے مقابلہ کے لئے ماضی سے آگہی ضروری ہے – ” بابا ” اور ” نروان ” یہی پیغام دیتے ہیں –
خورشید حیات کے افسانوں میں خوشبو ہے وطن کی مٹی کی – مٹی کی ہانڈی کی جو رواداری ، خلوص اور اپنائیت کی کلچرل علامت ہے – کی خانوں میں بٹا ہوا انسان کا وجود ہے اور کرچی کرچی بکھرا ہوا یہ انسان نیے تقاضوں اور نیئی خواہشات کے ساتھ خود کو سمیٹنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے – جب عناں فطرت سے بغاوت کرتا ہے – نفسیاتی کشا کش میں مبتلا ہوتا ہے ، ہٹا کٹا انسان بھیک مانگتا ہے – بھاگم بھاگ زندگی میں انسان مصنوعی ہنسی ہنستا ہے – مشترکہ تہذیب کے درمیان دیواریں اگ آتی ہیں یا اگا دی جاتی ہیں – تہذیب مدرسوں سے نکل کر ڈانس کلب کی طرف سفر کرتی ہے تو خورشید حیات کا قلم حرکت میں آ جاتا ہے ، اور ان دائروں کو توڑتا ہے جو فرسودہ روایتوں ، قدروں کی شکت و ریخت ، تاریکی اور روشنی کی کشمکش ، دیہات اور شہروں کی تفریق ، قول و فعڵ کے تضاد سے کھینچے گئے ہیں – تخریب ،خطرات ، اندیشے ، ہیبت ناکی ، مادہ پرستی ، انتشار اور انہدام ، سراسیمگی ، قتل و خون سے عبارت دائرے ، ، پیچیدہ اور پراسرار دائرے اور انھیں توڑ کر نی سمتوں کی تشکیل ———- یہی خورشید حیات کی افسانہ نگاری کا منظر نامہ ہے جو صحراۓ بسیط میں طوفان سے مقابلہ کرنے عزم بخشتا ہے ——– یہ دائرے ٹوٹتے ہیں تو روشنی پھوٹتی ہے ، اور دائرہ دائرہ اجالے ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو اعلان کرتا ہے ” راستہ کھلا ہے سفر جاری ہے – ” – خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں – آئیڈیالوجی کی موت پر یہ آنسو بھی بہاتے ہیں اور اپاہج انسان کا نوحہ بھی پڑھتے ہیں –
افسانہ ” ایڈز ” جس کے نام پر کتاب کا نام رکھا گیا ہے ، میں خورشید حیات نے ایک مہلک بیماری کے حوالہ سے غیر فطری افعال اور جدید مغربی تہذیب کی بے راہ رویوں کے نتائج سے تو آگاہ کیا ہی ہے ایشیا کے غریب ملکوں کی بے بسی اور بے چارگی کا قصہ بھی بیان کیا ہے – ” طوفان سے پہلے اور طوفان کے بعد ” انسان کو آگے بڑھتے رہنے کی ترغیب دیتا ہے – ” لفظوں کی موت ” صحت مند نظریات کا تشکیل نامہ ہے – ” چلتی رکتی گاڑی کے بیچ ” بے ترتیب بڑھتی آبادی کا نتیجہ ہے – ” وقت کے احاطے میں ” اور ” انسانیت کے دشمن ” میں فرقہ وارانہ فسادات اور ان کے اسباب مضمرات کو موضوع کیا گیا ہے – یہ افسانے دھرم کے نام پر کشت و خون کرنے والے ادھرمی لوگوں پر تازیانہ ہے – ” کشکول ” اور ” انگلیوں کا رقص اور آنکھیں ” عہد حاضرکے افسانہ نگار کا لائحہ عمل ہیں – ” سوالیہ نشان کے نیچے کا نقطۂ ” ان ظالم ہاتھوں کا تجاہل عارفانہ ہے جو انسانیت کے قاتل ہیں جو اپنے نظریات تھوپنے کے لئے امن و آشتی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں –
” ایڈز ” میں کل پندرہ افسانے شامل ہیں – خورشید حیات کے نظریات کی وسعت ، مشاہدہ کی گیرائی ، تجربوں کی ہمہ رنگی ، اسلوب کا انفراد اور کہانیوں کا اختصار متاثر کرتا ہے –

4 Comments
  1. Asrar Ahmad Raazi says

    معروف قلم کار جناب خورشید حیات صاحب کے افسانوی مجموعے پر جناب معین شاداب صاحب کا یہ تبصرہ بہت جامع معیاری اور افراط و تفریط سے پاک ہے_ یقینا یہ ایک شاندار تبصرہ ہے۔
    بالکل بجا فرمایا جناب معین شاداب صاحب نے کہ "خورشید حیات کے نظریات کی وسعت، مشاہدہ کی گیرائی، تجربوں کی ہمہ رنگی، اسلوب کا انفراد اور کہانیوں کا اختصار متاثر کرتاہے”
    جناب خورشید صاحب یہ بہترین تحریر شیئر کرنے کا بہت شکریہ
    اسرار احمد رازی، قاسمی

  2. SYED M.Y.SABA says

    Urdu Literature without Borders
    Urdu language and literature has a long and colorful history that is inextricably tied to the development of that very language, Urdu, in which it is written. While it tends to be heavily dominated by poetry, the range of expression achieved in the voluminous library of a few major verse forms, especially the Ghazal and Nazm (poetry), has led to its continued development and expansion into other styles of writing, including that of the short story, or Afsana. Urdu literature is principally popular in India and Pakistan. Additionally, it enjoys substantial popularity among South Asian immigrants in North America, Europe and Middle East and usually around the world. It is widely understood in Afghanistan. Urdu is finding interest in North American, European and South Pacific Asian countries primarily through South Asian immigrants.
    Kindly accept our hearty congratulation on the occasion of every time till the end of this mortal world
    We appreciating your intelligentsia and nobility, Sir / Madam this is the world which really needs now to nurture at every aspects we believe you are the right person who will enrich this world with your intellectual power and proper guidance. Wish you and your family all the best for the noble cause that you bring for inter-national harmony for the sake of the community of universe. May GOD bless you more power to enrich the people of whole community of the world.
    Your life will be an inspiration for coming generation till the end of this immortal world you are the guiding light of new-age world. Your dedication and commitment to build a dispute free peaceful world every human being can be proud of will never be forgotten. A guileless soul and an honest visionary, we all will always remain in the heart of coming generation.
    Your writings and contribution are the high level solution of the day to day problems for the creation of God. Your Lot of works / writings, which are not only fountain source of patriotism and humanity also top ranking prescription which are supper level asset and better than any religions.
    May god bless you to be solution of pillar not part of the problems for the human beings in this world respect and love each other unto Death?
    I pray to Holy God your intellectual practices of multilingualism will be a concern for core academic communities.
    Because multilingual scholars are a main pillar of global scholarship they make unique contributions that help reform, expand, and enrich the knowledge base of core disciplinary communities this is certainly a widely accepted idea For example, writers, if all knowledge is situated and personal, then periphery perspectives on different disciplines may provide unique insights also views the situation’s of multilingual scholars in their local communities as strength and notes, it affords uniqueness and closeness of perspective in my point view as above cited multilingual scholars enrich the knowledge base of core academic communities in two important ways one they write about things that mainstream disciplinary communities do not know of and two through accessing works that mainstream academic communities and they draw attention to untapped or unknown resources.
    In the light of above statements, it can be argued that limited participation of multilingual scholars in global scholarship will impoverish knowledge production Therefore, it is important that the particular difficulties of multilingual scholars be made public so that the research field can identify ways to help these scholars maintain visibility in the academic forum and contribute more to the core knowledge base.
    Therefore, I congratulate you that, you are one is the best multilingual scholars of global scholarship continuously you are giving your best unique contributions to the scholars those are belongs to the world of different languages and literature. God bless you much and more opportunity to enrich the whole Languages and literature around the world with human communities. So I appreciating your scripts / writings with generously it will be written in golden words how much I am happy to read it that I have no words to praise you and thanks in future your writings and contributions will play a key role to build-up a healthy and wealthy society around the world and a high-level good relations between our and your country through a bridge of love and peace.

  3. aleena itrat rizvi says

    bahut umda tehreer hai moin shadab sb. ..MUBARAKBAD

  4. Tamseel Hayat Noon says

    khurshid sb is the great writer. cong.

Leave A Reply

Your email address will not be published.