Dr. Syed Saeed Naqvi افسانہ۔۔۔ چشمِ حیراں ۔۔۔از: ڈاکٹر سید سعید نقوی

3 3

Syed Saeed Naqvi, Lake Grove, NY (USA), Email: saeedsyed64@hotmail.com

افسانہ: چشمِ حیراں
تحریر: ڈاکٹر سید سعید قادری

میرا خارجی منظر ایک انجماد کا شکار ہے۔ عکس کا تعلق منظر، عدسے اور فلم سے ہوتا ہے۔ اب یہاں عدسہ یا فلم تو تبدیل ہونے سے رہے، صرف منظر ہی بدل سکتا ہے، اور وہ برسوں سے انجماد کا شکار ہے۔ اس کا کچھ قصور شاید اس کھڑکی سے میرا عشق ہے ، جس کے پیچھے بیٹھ کر میں سارا دن گذار دیتا ہوں۔ نہ تھکن کا احساس ہوتا ہے، نہ تیزی سے گذرتے وقت کا۔ احساسِ زیاں کے للئے لازم ہے کہ پہلے آپ کو سرمائے کی قدر و قیمت کا احساس ہو۔ وقت چونکہ بظاہر بہتات میں ہے اس لئے ملکیت کا فریب رہتا ہے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ یہ کھڑکی لکڑی کی بنی ہوئ ہے۔ عمر کے ساتھ، ساتھ دھوپ، بارش اور موسم کی سختیوں سے لکڑی سالخوردہ ہوتی جارہی ہے۔ وہ تو شکر ہے اس کے دونوں پٹ باہر کی جانب کھلتے ہیں، اندر کی جانب کھلیں تو کیسا برہنگی کا احساس ہو۔ میرے بس میں ہو تو ایک آہنی خوش نما فریم کی کٹاؤ کے کام کی کھڑکی بنواؤں۔ اس میں ایک مچھر دانی جیسی جالی تان دوں کہ صرف اپنی مرضی کے مناظر چھن چھن کر اندر آسکیں۔نظارے یا احساس کو چاہے اس کھڑکی سے باہر رکھو، اور چاہو تو دھوپ کے ایک مستطیل ٹکڑے کی مانند اس کھڑکی سے اند بلالو اور حسن نظارہ کو تمازت سے سرشاررکھو۔ یہ کاری گر کبھی کام پورا کیوں نہیں کرتے، خیر اب مکان کی تعمیر کے بعد معمار سے کیا لڑنا۔
اس بار مارچ میں جب میں پاکستان گیا تو شاید یہ منظر کی تبدیلی کی ایک کاوش تھی۔ پاکستان میں اب صرف دو منظر ہوتے ہیں؛ قتل و غارت گری کا منظر یا کرپشن کا منظر۔ باقی سارے حسن کو حکمرانوں کی ہوسِ طلب بہا لے گئی یا مذہبی انتہا پسندوں کی تنگ نظری ۔ اس پس منظر میں ایک دن جوڑیا بازار میں گھوم رہا تھا۔ ایک کباڑئے کی دکان پر ایک بہت پرانی فلم بین دکھائ دی۔میری عمر کے لوگوں کو یاد ہوگا کہ یہ پہیئے کی شکل کا ایک دوربین نما آلہ ہے۔ اسے آنکھوں کے سامنے جما لیں اور پھر ایک ہاتھ سے پہیہ گھماتے جائں، اسکا فریم بدلے گا ساتھ ساتھ منظر بدلتے جائں گے۔ پاکستان جاؤں تو کباڑئے کے ہاں ضرور جاتا ہوں۔ اپنی کھوئ ہوئ عظمت کی نشانیاں آپ کو کباڑئے کے ہاں جا بجا بکھری ملیں گی۔ اس پر طرہ یہ کہ کوڑیوں کے مول دستیاب ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس دام بھی کوئ ان کا مول دینے کو تیار نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئ بھگوڑا سپاہی کسی پچھلی جنگ کا تمغہ مانگ کے سینے پر سجا کر ایک چھوٹی خوشی ادھار لے لیتا ہے۔ میں ایک بھگوڑا تارک الوطن، اپنے تمغوں کی تلاش میں کباڑئے کی دکانیں کھدیرا کرتا ہوں۔
میری دلچسپی دیکھ کر کباڑئے نے اس کے اوصاف بیان کرنے شروع کر دےٗ:
’ ارے صاحب یہ بہادر شاہ ظفر کے ایک کاری گر نے واسرائے کی بیوی کے لئے تیار کیا تھا۔ اسکی خوبی یہ ہے کہ اسے آنکھوں کے سامنے رکھ لوتو منظر ہوگا کچھ لیکن آپ کو نظر آئے گا کچھ اور۔ یہی خود بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہوا۔ منظر تھا کچھ اور انہیں کچھ اور نظر آتا رہا۔ یہ فلم بین آنکھوں کے سامنے سے ہٹانا بھول گےٗ۔ صرف خرابی یہ ہے کہ ایک دن میں آپ کویہ صرف ایک ہی منظر دکھاتی ہے ، چاہے آپ کتنی ہی بار اسے نگاہوں کے سامنے جما لیں۔ دوسرے منظر کے لئے نئے سورج کا انتظار کرنا پڑے گا۔ لوگ بور ہو جاتے ہیں۔ مگر آپ بہت قدردان معلوم ہوتے ہیں، بہت مناسب قیمت لگا دوں گا‘۔
نہ جانے کیا سوچ کر میں اس کی باتوں میں آگیا۔ ایک تو ڈالر جیب میں رکھ کر پاکستان جاؤ تو لگتا ہے جیب میں ڈالر کھلنے لگتے ہیں۔ خرچ ہونے کو بے چین۔ کئ ایسی چیزیں ساتھ آجاتی ہیں کہ بعد میں قلق ہو وہیں چھوڑ آتے تو اچھا تھا۔خیر یہ ایک علیحدہ قصہ ہے پھر کبھی۔ اب یہ فلم بین آلہ میں نے خرید تو لیا، لیکن گھر آکر سوٹ کیس میں بند کردیا۔ سوچا نیویارک میں جب منظر کی یکسانیت بہت تنگ کرے گی تو روز اس سے ایک نیا منظر تراشوں گا۔
آج پیر کا دن ہے، نیو یارک کی جنوری کی ایک بہت سرد اور برفیلی صبح ہے۔ میں چائے کا کپ لئے کھڑکی سے نظارے اندر آنے دے رہا ہوں۔ہرے بھرے باغ پر دور تک سفید دودھیا برف کی چادر بچھی ہے۔ برف کی سفیدی سے منعکس ہونے والی سورج کی کرنیں کس قدر سکون دے رہی ہیں۔ دھوپ اور برف زیادہ دیر ایک دوسرے کی قربت برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک کی شدت دوسرے کو مارے رکھتی ہے۔جب تک میانہ روی رہے، دونوں کا سنگم ماحول کو بہت فرحت انگیز اور حسین بنائے رکھتا ہے۔ اس وقت بھی ایسا ہی تھا۔ ٹھنڈ کی شدت دھوپ کی حدت کو مار رہی تھی۔ میرے جی میں کیا آیا، اپنی فلم بین اٹھا لایا اور آنکھوں کے سامنے رکھ دی۔ کیا دیکھتا ہوں کھڑکی کے سامنے فٹ پاتھ پرایک گلہری دانا دنکہ نگل رہی ہے۔ عموماٌ اس موسم میں گلہریاں اپنی کھوہ میں آرام کرتی ہیں۔ خزاں اور اول سردی میں قسم قسم کے مغزیات اور دوسری خوراک جمع کر کے سخت موسم کی آمد سے پہلے گلہری کے ہاں اناج ذخیرہ ہو چکا ہوتا ہے۔ یا تو اس گلہری کے ذخیرے کا اندازہ غلط تھایا یہ گلہری ہوس میں زیادہ کھا بیٹھی تھی اور اب انجام بھگت رہی تھی کہ اس برفانی صبح غذا کی تلاش میں بھٹک رہی تھی۔ جس درخت سے یہ گلہری اتری تھی وہ اس وقت ٹنڈ منڈ کھڑا تھا اور ساری سردیاں ایسے ہی ننگے سر کھڑا رہتا۔ یہ بھی قدرت کا عجیب کھیل ہے آپ امید کریں گے کہ سردیوں میں درختوں کو سردی سے بچاؤکی خاطر پتوں کے لحاف کی ضرورت ہوگی۔ مگر قدرت ان پر سے لحاف کھینچ کر درختوں کو بے سر و سامان کر دیتی ہے۔ اسی درخت کے نیچے ایک موٹر سائکل سوار ہاتھ پر چمڑے کے دستانے چڑہاےٗ، کالی جیکٹ پہنے جس کی زپ سامنے سے اوپر تک بندھی تھی، جیکٹ کے کالر بھی کھڑے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سردی کو روک لے، موٹر سائکل اسٹارٹ کئے کسی کے انتظار میں کھڑا تھا۔ایک پیر زمین پر اور ایک پائدان پر۔ سردی اتنی شدید کہ منہ سے نکلی سانس بھی باہر آکر جم جاتی تھی۔ ایسے میں وہ اضطراری طور پر موٹر سائکل کا ایکسلیریٹر گھمائے جا رہا تھا۔ جہاں اسکی آواز ماحول کا سناٹا توڑ رہی تھی وہیں سائلنسر سے دھواں نکل کر سرد ماحول میں اپنی گرمائش کھو رہا تھا۔ میں بہت دیر تک دلچسپی سے اس گلہری کو دیکھتا رہاجو موٹر سائکل کے پاس پڑے کسی اخروٹ کی تاڑ میں تھی۔ گلہری جب بھی ذرا آگے بڑھتی، اتفاقاٌ اسی وقت موٹر سائکل کی آواز بڑھ جاتی جس سے وہ ڈر کر پیچھے ہٹ جاتی۔ وہ نو جوان اس بات سے بالکل بے خبر تھاکہ اس کی بے ضرر بے چینی کسی کو اس کی خوراک سے محروم کر رہی ہے۔ سچ یہ ہے کہ بظاہر بے ضرر اور سادے سے عمل کے ایسے اثرات ہو سکتے ہیں جو دوسروں کے لئے زیادہ اہم ہوں۔ گلہری نے بھی ہمت نہ ہاری، غالباٌ سترھویں حملے سے ذرا پہلے وہ نوجوان موٹر سائکل آگے بڑھا لے گیا، اور گلہری کو اپنی مستقل مزاجی کا پھل مل گیا۔ گلہری کی استقامت اور حکمتِ عملی ہر دفعہ وہی تھی لیکن قدرت نے ایسی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں جن کے ہٹے بغیر یہ مرحلہ دشوار تھا۔ میں کھڑکی سے ہٹ آیا۔ سارا دن وہ دوربین نما شے لگا لگا کر دیکھتا رہا، مگر ہر بار وہی ایک منظر سامنے آجاتا۔ میرے ذہن میں دکاندار کا وہ فقرہ گونجا کہ اس کی خرابی یہی ہے کہ سارے دن میں بس ایک ہی منظر دکھاتی ہے۔
منگل کی شام میں کام سے جلدی لوٹ آیا۔ ذرا سستا کے بیٹھا تھا کہ اپنی فلم بین کا خیال آیا۔ آنکھوں کے سامنے لگا کر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شام کے سائے لمبے ہو رہے ہیں اور دونوں وقت ملنے کو ہیں۔ اس وقت کھڑکی سے جھگی کے باہر کا نظارہ دکھائ دے رہا ہے۔ سامنے ایک رہٹ اور کنواں ہے۔ سیدھے کھڑے ہو کر دیکھنے سے کنویں کی صرف منڈیر نظر آرہی ہے۔ اس کے اندر کا نظارہ کرنے کے لئے مجھے اپنے پنجوں کے بل اچک کر تقریباٌ آدھا باہر لٹکنا پڑا۔ ایک ہاتھ سے فلم بین آنکھوں کے سامنے لگاےئے دوسرے ہاتھ سے اپنا توازن قائم رکھے میں مضحکہ خیز لگ رہا ہوں گا ۔ مگر حدِ نظر کے پار کا نظارہ کرنے کے لئے بعض دفعہ آدمی کو مضحکہ خیز طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں، پنجوں کے بل اٹھنا پڑتا ہے۔ لمبے قد سے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے کنویں کی تہہ میں پانی اور تین ٹانگ کا ایک مینڈک تک نظر آگیا۔یہ مینڈک غالباٌ اسی کنویں کی پیداوار ہے اور یہیں اپنے دن پورے کر کے ختم بھی ہو جائے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کنویں میں اور کوئ مینڈک نہیں ہے تو پھر یہ کہاں سے آگیا۔شاید باہر سے جھانک رہا ہواور کنویں میں گر پڑا ہو۔ اکژ بلا ضرورت تانک جھانک ایسی ہی مشکلوں سے دوچار کردیتی ہے۔ بھئ راستے میں کنواں پڑا بھی تھا تو چکر کاٹ کر دوسری طرف پھدک جاتا، بلا وجہ منڈیر سے نیچے جھانکنے کی کیا ضرورت تھی۔ اب تجسس کی سزا بھگت رہا ہے۔تجسس کی سزا کالا کنواں ایک پرانی رومانوی داستان ہے۔ مگر میرے پاس اس بات کا کوئ ثبوت نہیں کہ یہ کہاں سے آیا ہے ہو سکتا ہے اسی کنویں کی پیداوار ہو؟
ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ ایک اور مینڈک کنویں کی منڈیر پر آبیٹھا۔ واہ بھئ یہ فلم بین بھی خوب تماشے دکھا رہی ہے۔ کنویں کے اندر بیٹھے مینڈک نے جو منڈیر کے مینڈک کو دیکھا تو اس سے چپ نہ رہا گیا:
’ کیسے ہو بھیا یہ تمھاری ایک ٹانگ کیسے کٹ گئ؟‘
’ دونوں ٹانگیں سلامت تو ہیں میری . کیا پوچھ رہے ہو‘
’ ہا ہا‘ کنویں کا مینڈک ہنس دیا۔ ’ مینڈک کی تو تین ٹانگیں ہوتی ہیں۔ دیکھ لو میری تینوں ٹانگیں سلامت ہیں‘
’ باؤلے ہوئے ہو سارے مینڈک دو ٹانگوں کے ہوتے ہیں، تمھاری ایک ٹانگ زیادہ ہے‘
’ اپنی کمی کو مجھ پر تھوپ رہے ہو۔ بہت تیز مینڈک ہو بھء۔ خیر چھوڑو اس بحث کو، کہو آج چاند نہیں نکلا؟‘
’نکلا تو ہے مگر شرقی افق پر ہے‘
’ شرقی افق؟ یہ کیا بلا ہے۔ سیدھا سادھا گول تین گز قطر کا آسمان ہے ، اس میں شرقی غربی کیا کر رہے ہو، اور نکلتا تو کیا مجھے نظر نہیں آتا؟‘ کنویں کے مینڈک کو یہ باہر منڈیر پر بیٹھا مینڈک بہت جھوٹا، چالاک اور مکار لگا۔
’ نہیں میاں، آسمان تو بہت وسیع اور عظیم ہے۔ ہر سمت میں حدِ نظر تک پھیلا ہے۔ تمھارا مسٗلہ یہ ہے کہ تم نے صرف کنویں کے اوپر کا آسمان دیکھا ہے۔ ورنہ آسمان تو کھیت، کھلیان، صحرا، پہاڑ سب پر ایک چھتری کی طرح تنا ہوا ہے‘۔
’ کھیت، کھلیان، صحرا، پہاڑ یہ کیسی افلاطونی گپ ہانک رہے ہو؟‘
’ تم سے گفتگو بیکار ہے‘۔ منڈیر پر بیٹھے مینڈک نے سرد آہ بھری اور پھدک کر میری فلم بین کے فریم سے باہر ہو گیا۔ پنجوں پر کھڑے کھڑے میں بھی تھک گیا تھا۔ اور پھر کھڑکی سے آدھا لٹک کر آپ کسی چیز کا کتنی دیر تک نظارہ کر سکتے ہیں بھلا۔ وہ بھی جب گفتگو دو مینڈکوں میں ہو۔ میں نے دونوں پیروں پر برابر وزن ڈالا اور سیدھا کھڑا ہوگیا۔ دونوں پیروں پر برابر کا وزن ڈالیں تو زیادہ عرصے سیدھے کھڑے رہ سکتے ہیں، آزما کر دیکھ لیجئے۔
اب تو مجھے اس فلم بین سے ایسا لطف آنے لگا تھا کہ بدھ کو تو میں کام سے جلدی چل�آیا، دیکھیں آج کیا ماجرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اب جو فلم بین آنکھوں کے سامنے لگا کر کھڑا ہوا تو لگا پھر وہی کل جیسا منظر ہے۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ اس میں تو روز نیا منظر نظر آنا تھا۔ میں نے فلم بیں آنکھوں سے ہٹا کر عدسوں پر پھونک ماری، پھر کرتے دامن سے ذرا شیشے صاف کےٗ۔ دوبارہ آنکھوں کے سامنے رکھا۔آہا، پس منظر تو شاید کل سے ملتا جلتا تھا۔ لیکن بعض اوقات چھوٹی دلچسپیاں ایسی آپ کی توجہ کھینچ لیتی ہیں کی سامنے کی بڑی اور واضح تصویر نظر نہیں آتی۔ کنواں تو شاید کل والا ہی تھا لیکن آج ایک رہٹ اور اس میں جتاُ بیل فوکس میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں ایک بیل جس کا سینہ رسوں کی مدد سے ایک لکڑی کے بانس نما تختے سے بندھا ہے۔ بیل کنویں کے چاروں طرف گول گول چکر لگا رہا ہے۔ جب تک اس کا پالنے والا اور رکھوالا اسے کھول نہیں دے گایہ اسی طرح بظاہر بے مقصد ایک دائرے میں گھومتا رہے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس بے مقصد طواف سے خلقِ خدا کے لئے پانی اوپر کھنچ رہا ہے۔ خود بیل اپنی اس افادیت سے بے خبر ہے۔ یہ لا علمی بھی رکھوالے کے مفاد میں ہے۔ بیل کو اپنی افادیت کا علم ہو جائے تو حساب کتاب، معاوضے، انعام اور حقوق کی دھند میں افادیت کے خدوخال مدھم پڑ جائیں۔ بہت سے مالک ان الجھنوں میں پڑنے سے بہترسمجھتے ہیں کہ آنکھوں پر موم ٹپکا کر کام نکال لیں۔ پھر یہ طرزِ عمل صرف افراد تک ہی محدود نہیں، بین الاقوامی تعلقات بھی اس آئن کے پابند ہیں۔ بلکہ اگر غور کریں تو شاید خالقِ اعظم بھی اسی طرزِ عمل کا مجرم ہے، موم ٹپکا کر زمین پر پٹخ دیا اب ٹٹولتے پھرو۔ رہٹ اور بیل کے منظر میں اتنی یکسانیت تھی کہ میں بہت بور ہو گیا۔ فلم بین کو بند کر کے جیب میں رکھا اور چہل قدمی کو باہر نکل گیا۔
جمعرات کا منظر زیادہ خوش کنُ تھا۔ واقعی حیرت کی بات ہے کہ اسی کھڑکی سے کیسے قسم قسم کے مناظر نظر آرہے تھے۔ کھڑکی کے دونوں پٹ وا کر کے فلم بین آنکھوں سے لگائ تو کتوں کا ایک ریس کورس سامنے تھا۔ نزدیک و دور سے شوقین مزاج امراء، شاطر اور دوسرے تماش بین ، کتوں کی دوڑ دیکھنے اور ان پر شرط بدنے کو چلے آرہے ہیں۔ امراء کے لئے تو یہ کھیل ہی کے زمرے میں آئے گا۔ پیسے کی فراوانی ہو تو اسے نت نئے طریقوں سے جوش، جذبہ، لطف اور ہیجان ھاصل کرنے کے لئے صرف کیا جاتا ہے۔ جیت سے بڑھ کر خوشی اور ہیجان کیا ہو سکتا ہے۔ کچھ ذرا کم خوش قسمت شائقین بھی اپنے کپڑوں کی تراش خراش سے پہچانے جارہے ہیں۔ یہ اپنے بخت کے ستارے کتوں کی دوڑ سے چمکانے کی امید میں آئے ہیں۔غرض یہ کہ انواع و اقسام کے شرکاء مختلف امیدوں اور امنگوں کے ساتھ دمکتے چہروں سے آرہے ہیں، لیکن بیشتر منہ لٹکائے واپس جائں گے۔ پتلی کمر اور مضبوط ٹانگوں والے دو درجن کتے، ایک کاغذی خرگوش کے تعاقب میں سر دھڑ کی بازی لگائے بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ لالچ ان کو بھگائے لئے جا رہی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت کی جدوجہد کہ کوئ ان سے پہلے پہنچ گیا تو درُ
ِ خرگوش ہاتھ سے نہ جاتا رہے۔ ذرا دم لے کر غور کر لیتے تو اس مشقت سے نہ صرف بچ جاتے بلکہ دوسرے کتوں پر ہنسنے کا موقع بھی مل جاتا۔ لیکن کم از کم اس کھڑکی سے ایسا کوئ کتا نظر نہ آیاجو صبر کے ساتھ رک کر، دوڑنے سے پہلے خرگوش کے بارے میں کچھ سوچ رہا ہو۔ہر کتے کو خانہ کھلتے ہی خرگوش کے پیچھے سرپٹ دوڑتے دیکھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے جمعہ آگیا۔ اسلامی جمہوریہ میں آج آدھے دن کی چھٹی ہے۔ ہم نماز نہ بھی پڑھیں لیکن چھٹی سے کفرانِ نعمت نہیں۔ چند گھنٹے کا کام ہی کیا اور وہ بھی اسلامی جمہوریہ میں۔ بھئ ابھی تو دفتر آئے ہیں ، کچھ سانس درست ہولے تو کام شروع کریں۔ لیجئے شروع کرنے سے پہلے سمیٹنے کا وقت آگیا۔جمعے کا دن ہے ، نہانہ دھونا بھی ہے، ایسا نہ ہو نماز میں دیر ہو جاےٗ۔ بس اب یہ کام سمیٹ کر رکھدو پھر کریں گے، جتنی دیر میں میرا لپٹا ہوا بستر کھلا۔لعنت ہواس فلم بین پر، ایسا چسکا پڑا تھا کہ گھر جاتے ہی کچھ دیر میں یہ آنکھوں کے سامنے ٹکی ہوئ تھی۔ جمعے کو کیوں استثنا ہوتا۔ آنکھوں سے یہ عدسہ لگایا تو آج کھڑکی سے امارات کا منظر نظر آرہا ہے۔ جمعے کی تعطیل ہے۔ نماز کا وقت ختم ہو چکا ہے، سہ پہر سورج ڈھلنے سے پیلے کا منظر ہے، تمازت خاصی کم ہو چکی ہے۔ ماشاء اللہ لوگ جوق در جوق اونٹوں کی سیر کے لئے جا رہے ہیں۔ عبارت سے فارغ ہو کراب مخلوقِ خدا کچھ کھیل کھلیاڑ کی بھی حقدار ہے۔ میدان میں وہی کتوں کی دوڑ والا منظر ہے۔ لیکن یہاں عرب شیوخ بہترین کاٹن کی عبا چغا پہنے، قیمتی دھوپ کی عینکیں ناک کی پھننگ پر اٹکائے، اونٹ دوڑ کے میدان کی طرف گامزن ہیں۔ گاڑیاں نئ اور کشادہ ہیں، اکثر گاڑیوں کا مربعہ ان کے ڈراؤروں کے کمرے سے بیش ہے۔ اونٹ دوڑانے والے اکثر خارجی ہیں۔ زیادہ تعداد یمن کے غریب باشندوں کی ہے جو اونٹوں کی نکیل پکڑے آگے آگے ہیں۔ اونٹ دوڑ شروع ہو چکی ہے، اونٹوں کی پیٹھ پر شاید گڈے گڑیا باندھ دئے گئے ہیں کہ دیکھنے میں خوشنما لگیں۔ لیکن ٹھہرئے اونٹوں نے رفتار پکڑ لی تو یہ گڈے گڑیا دہشت سے چیخ رہے ہیں۔ یہ چیخیں اونٹوں کے لئے چابک کا کام دے رہی ہیں، اونٹ بھڑک کر اور تیز بھاگ رہے ہیں۔ پویلین میں بیٹھے شیوخ اب ہاتھوں میں شربت کے گلاس لئے کھڑے ہو گئے ہیں اور مسرت سے چیخ رہے ہیں۔ دوربینیں ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا اونٹ آگے نکل جائے تو چہرے پر فخر و غرور کی قوس و قزع بکھر جاےٗ۔ جو بچے اونٹوں سے باندھ دئے گئے ہیں انکی اوسط عمر چھ سال ہے۔ ایک اونٹ کی پشت پربندھی رسی ڈھیلی ہوئ تو بچہ زمین پر ٹپک گیا۔میں نے فلم بیں آنکھوں کے سامنے سے ہٹالیا۔ مزید دیکھنا میرے شعور کی برداشت سے باہر ہے۔ غنیمت ہے اور خوش قسمت ہیں جانور کہ وہ بھوک و افلاس سے مجبور ہو کر، اپنے بچوں کی جان امارات کی شریانوں میں دورانِ خون بڑھانے پر قربان نہیں کرتے۔ مجھے فلم بین سے ایسی نفرت ہوئ کہ اسے لاکر میز پر پٹخ دیا۔ کیسا اچھا دن گذر رہا تھا۔ اس کثافت نے ایمان و ایقان کی جڑیں ہلا دیں۔ یہ منظر تو شاید مرتے دم تک میرے لا شعور میں ایک ایسا بیک گراؤنڈ بن گیا ہے، جیسے کوئ کمپیوٹر کھولو تو شروع میں اسکرین پر ایک بیک گراؤ نڈ تصویر ابھرا کرتی ہے، اس کے بغیر کمپیوٹر استعمال کرنانا ممکن ہوتا ہے۔ لا علمی روح کو کتنے دکھوں سے محفوظ رکھتی ہے، مجھے مشرق کے بارے میں کپلنگ کے فرمودات کچوکے لگانے لگتے ہیں۔
آج سنیچر کا دن ہے۔ اسلامی مملکت میں پھر نصف چھٹی ہے۔ کل سوچا تھا اب فلم بین نہیں دیکھوں گا۔ ان پانچ دنوں میں پانچ مناظر نے میری دنیا تہہ و بالا کر دی تھی۔ اب میں منہ پر چادر ڈال کر سونے لگا تھا۔ مگر خیالات کی یلغار اس چادر کے پردے کو کسی خاطر میں نہ لاتی ۔
بھئ آپ سگریٹ بھی تو پیتے ہیں، معلوم ہے مضر صحت ہے مگر پھر بھی پیتے ہیں۔ بس یوں سمجھ لیجئے اسی قسم کا چسکہ ا س فلم بین نے پیدا کر دیا تھا۔ آنکھ کے آگے فلم بین کا عدسہ رکھ کر کھڑکی پر جا کھڑا ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جنگل کے عین وسط میں ایک میدان دھرا ہے، جس میں درخت تو کیا گھاس پوس کی روئدگی بھی نہیں۔چاروں طرف سے جانور آ آکر جمع ہو رہے ہیں۔ پچھلی قطار میں کچھ شیر بھی سر جھکائے بیٹھے ہیں ۔ کچھ چیتے اور شیر ادِھر ادھر قیلولے میں مصروف ہیں، کچھ کے سامنے ہرن اور بکری کے گوشت کے انبار لگے ہیں۔ وہ اس گوشت خوری میں ایسے مصروف ہیں کہ سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت بھی نہیں۔ سب سے اگلی قطار میں لکڑ بگھے، بجو، لومڑ اور اس قبیل کے کئ جانور نشست سنبھالے بیٹھے ہیں۔ سب سے اگلی اور آخری قطار کے درمیان ہرن، نیل کنٹھ، ہاتھی، گاےٗ، زیبرا اور بندر وغیرہ غرض قسم قسم کے جانور بھیڑ لگائے ہوئے ہیں۔ اچک اچک کر یہ جانور آگے اسٹیج کو دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ایک گیدڑ اس مجمعے سے خطاب کر رہا ہے:
’میرے عزیز ہم وطنو؛ کل رات کی تاریکی میں نوزائدہ جمہوریت کا دم گھٹنے سے انتقال ہو گیا۔نئی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس آج شام چھ بجے طلب کیا گیا ہے، اور۔‘
اس سے پہلے کہ بات مکمل ہوتی، حسبِ عادت بندر بیچ میں بول پڑا
’شیر ببر کا کیا ہوا، یہ کیسے ممکن ہے؟‘
’نظریہٗ ضرورت‘ گیدڑ نے مسکرا کے کہا، اور اسکی ایک آنکھ کے اشارے پر چند چھوٹے گیدڑ آگے بڑ ھے اور ڈنڈا ڈولی کر کے چیختے چلاتے بندر کو اٹھا لے گےٗ۔
شیر نے اس شور شرابے سے نظر اٹھائی تھی تو ایک گیدڑ نے اس کے آگے ایک تازہ بکری ڈال دی۔
’ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔۔‘ گیدڑ کی تقریر جاری تھی کہ میری سماعت دہشت زدہ ہو کر جواب دے گئ اور میں کھڑکی سے پیچھے ہٹ آیا۔ باقی سارا دن میں نے بی بی سی کے آگے بیٹھ کر اور ناہید اخترکے گیتوں کے درمیاں کہیں گزار دیا۔
آج میرا پسندیدہ دن ہے، اتوار کا دن۔کون کہتا ہے مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب، اور دونوں کبھی نہیں مل سکتے۔ اتوار کے دن یہ دونوں ملتے ہیں۔ گرجے تو خیر سے بند کرادئے ایماں کی حرارت والوں نے لیکن اتوار کی چھٹی نہ بند کراسکے۔لہذا اتوار کا دن لمبی تان کر سونے اور گیارہ بجے اٹھنے کا دن ہے۔ تین بجے دوپہر تک نائٹ سوٹ میں ملبوس گڈ مارننگ پاکستان شو دیکھنے کا نام اتوار عیاشی ہے۔ ایسے میں عدسے کی باری آتے آتے دو پہر ہو گء۔ اتوار کی اس خوبصورت دوپہر، ٹی وی کا کان مروڑ کر اسے بند کیا اور شاور کا رخ کیا۔نہا کر ڈھیلے ڈھالے باتھنگ گاؤن میں ہی نکل آیا۔ پاؤں میں سلیپر اٹکاےٗاور پھر وہی کھڑکی کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ابھی عدسہ آنکھ پر رکھا بھی نہیں تھا کہ سامنے ایک درخت پر بندر بیٹھا نظر آیا۔ میں نے جھٹ سے فلم بین آنکھوں پر لگائ مگر تب بھی وہی منظر نظر آیا، کہ ایک بندر سامنے درخت پر بیٹھا کھیسیں نکال رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں کیلا ہے، دوسرے سے وہ مجھے انگوٹھا دکھا رہا ہے۔ مجھے دو تین مرتبہ حیرت سے عدسہ لگاتے ، ہٹاتے دیکھا تو بولا:
ؔ اپنا عکس دیکھنے کے لئے عدسے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ شاہد بندر پن دکھانا ضروری تھا۔ ایک چھلانگ مار کر کھڑکی کی منڈیر پر آبیٹھا۔ میں ڈر
کر ذرا پیچھے ہو گیا۔
’اپنوں سے کیا ڈر‘ کسی بندر کے اس قسم کے احمقانہ جملوں کا کوئ کیا جواب دے۔
ؔ ’ اے احمق انسان، ان مناظر کو دیکھنے کے لئے تجھے کیا واقعئ اس عدسے کی ضرورت تھی؟‘ مجھے لگا جیسے بندر میری ہی آواز میں مجھ سے مخاطب ہے۔ ’سب دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ دیکھنا چاہو تو یہ عدسہ بھی بیکار ہے، یہ کیلا لے لو عدسہ مجھے دے دو‘،
میں گنگ تھا، بے اختیار اپنی فلم بین پشت کی طرف کر لی۔
’یہ عدسہ تمھیں تپ دقِ کر دے گا، لاؤ مجھے دے دو‘ بندر بچوں کی طرح مجھے پھسلا رہا تھا، سمجھا رہا تھا۔
’ تم تو ہمیشہ کھلونے دے کے بہلائے گئے ہو، چلو یہ بھی رکھ لو۔ ہم تو تمھارے بھلے کو کہہ رہے تھے، آگہی کے عذاب سے بچ جاتے، خیر تم ہی جانو‘۔ یہ کہہ کر بندر چھلاوے کی طرح درختوں کے بیچ غائب ہو گیا۔ میں نے اس عدسی فلم بیں کو ، اپنی پائیں باغ میں نیم کے درخت کے پاس ایسے دفن کر دیا ہے کہ پھر میرے اندھے پن کو بینائ دینے کی جسارت نہ کر سکے۔
***

3 Comments
  1. Hafiz Muzaffar mohsin says

    good idea…

  2. Nayyar says

    nice one story

  3. saeed naqvi says

    Thank you Muzzaffar and Nayyar
    Saeed

Leave A Reply

Your email address will not be published.